مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1357

حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ قَالَ نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے، تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، یہی جھگڑا دوبارہ ہوگا یہاں تک کہ حقدار کو اس کا حق مل جائے، اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ یہ تو بہت سخت بات ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں