حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ عَنِ الزُّبَيْرِ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ قَالَ بِنَخْلَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا قَالَ سُفْيَانُ كَانَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ كَاللِّبَدِ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنات کے قرآن کریم سننے کا جو تذکرہ قرآن شریف میں آیا ہے وہ وادی نخلہ سے متعلق ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ رہے تھے اور آیت قرآن " کادوا یکونون علیہ لبدا " کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے سفیان کہتے ہیں کہ ایک دوسرے پر چڑھے چلے آرہے تھے (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت میں مصروف دیکھ کر مشرکین بھیڑ لگا کر اس طرح اکٹھے ہو جاتے تھے کہ اب حملہ کیا اور اب حملہ کیا، ایسا محسوس ہوتا تھا)
