مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1361

حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ آخِرُ حَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگوں کی اچھی خاصی تعداد تھی کہ اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی) تو ہم کہنے لگے کہ یہ کون سی آزمائش ہوگی؟ لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آگئی۔

یہ حدیث شیئر کریں