حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قَالَ فَبِالشَّطْرِ قَالَ لَا قَالَ فَبِالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگئے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کی اللہ کے راستہ میں وصیت نہ کردوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، عرض کیا کہ نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں، عرض کیا کہ نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں، عرض کیا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں؟ فرمایا ہاں ایک تہائی کی وصیت کردو، اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔
