حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ إِنَّكَ إِنْسَانٌ فِيكَ حِدَّةٌ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ قَالَ مَا هُوَ قَالَ قُلْتُ حَدِيثُ عَلِيٍّ قَالَ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى قَالَ رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى
حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے پوچھتے ہوئے ڈر لگتا ہے، کیونکہ آپ کے مزاج میں حدت بہت ہے، انہوں نے فرمایا کون سی حدیث؟ میں نے پوچھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے نائب کے طور پر مدینہ منورہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑا تھا تو ان سے کیا فرمایا تھا؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو سوائے نبوت کے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی، انہوں نے کہا میں خوش ہوں، پھر دو مرتبہ کہا کیوں نہیں۔
