مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1435

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي رَجُلٌ كُنْتُ أُسَمِّيهِ فَنَسِيتُ اسْمَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَتْ لِي حَاجَةٌ إِلَى أَبِي سَعْدٍ قَالَ و حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ مُجَمِّعٍ قَالَ كَانَ لِعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أَبِيهِ حَاجَةٌ فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ حَاجَتِهِ كَلَامًا مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ يُوصِلُونَ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا بُنَيَّ قَدْ فَرَغْتَ مِنْ كَلَامِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا كُنْتَ مِنْ حَاجَتِكَ أَبْعَدَ وَلَا كُنْتُ فِيكَ أَزْهَدَ مِنِّي مُنْذُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ هَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرَةُ مِنْ الْأَرْضِ

عمرو بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کوئی کام پڑ گیا، انہوں نے اپنا مقصد بیان کرنے سے پہلے ایک لمبی چوڑی تمہید باندھی جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے، جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیٹا! آپ اپنی بات پوری کر چکے؟ عرض کیا جی ہاں! فرمایا تم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ دور نہیں ہو (میں تمہاری ضرورت پوری کردوں گا) لیکن جب سے میں نے تم سے یہ بات سنی ہے، مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو اپنی زبان (چرب لسانی) کے بل بوتے پر کھائے گی جیسے گائے زمین سے اپنی زبان کے ذریعے کھانا کھاتی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں