مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1450

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَعْدٍ فَقُلْتُ حَدِيثًا حُدِّثْتُهُ عَنْكَ حِينَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَغَضِبَ فَقَالَ مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَهُ أَنَّ ابْنَهُ حَدَّثَنِيهِ فَيَغْضَبَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ اسْتَخْلَفَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ وَجْهًا إِلَّا وَأَنَا مَعَكَ فَقَالَ أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے ایک حدیث سنائی، میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے مدینہ منورہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا؟ وہ یہ سن کر غصے میں آگئے اور فرمایا کہ تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے ان کے بیٹے کا نام لینا مناسب نہ سمجھا پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر کر کے وہاں چھوڑ دیا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میری خواہش تو یہی ہے کہ آپ جہاں بھی جائیں، میں آپ کے ہمراہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو سوائے نبوت کے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی۔

یہ حدیث شیئر کریں