مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1484

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُنْزِلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ قَالَ أَبِي أَصَبْتُ سَيْفًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ قَالَ ضَعْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أُجْعَلْ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ قَالَ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ قَالَ وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ قُلْ الْأَنْفَالُ وَقَالَتْ أُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَاللَّهِ لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ قَالَ وَالطَّعَامَ فَأُنْزِلَتْ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فَنَهَانِي قُلْتُ النِّصْفُ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثُ فَسَكَتَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنْ الْخَمْرِ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ فَتَفَاخَرُوا وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ الْأَنْصَارُ خَيْرٌ وَقَالَتْ الْمُهَاجِرُونَ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَهُ فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ

مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب کے بارے قرآن کریم کی چار آیات مبارکہ نازل ہوئی ہیں، میرے والد کہتے ہیں کہ ایک غزوہ میں مجھے ایک تلوار ملی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ مجھے عطاء فرما دیں، فرمایا اسے رکھ دو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ مجھے عطاء فرما دیجئے، کیا میں اس شخص کی طرح سمجھا جاؤں گا جسے کوئی ضرورت ہی نہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو، اس پر سورت انفال کی ابتدائی آیت نازل ہوئی۔ پھر جب میں نے اسلام قبول کیا تھا تو میری والدہ نے مجھ سے کہا کیا اللہ نے تمہیں صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیا؟ بخدا! میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کر دو گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، انہوں نے کھانا پیناچھوڑ دیا حتی کہ لوگ زبردستی ان کے منہ میں لکڑی ڈال کر اسے کھولتے اور اس میں کوئی پینے کی چیز انڈیل دیتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اگر وہ تمہیں شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات نہ مانو۔ پھر ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرمایا: نصف کے متعلق سوال پر بھی منع کر دیا، لیکن ایک تہائی کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ پھر حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے قبل ایک انصاری نے دعوت کا اہتمام کیا، مدعووین نے خوب کھایا پیا اور شراب کے نشے میں مد ہوش ہوگئے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کر دیا، انصار کہنے لگے کہ انصار بہتر ہیں اور مہاجرین اپنے آپ کو بہتر قرار دینے لگے، اسی دوران ایک آدمی نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور ایک آدمی کی ناک زخمی کر دی، جن صاحب کی ناک زخمی ہوئی وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تھے، اس پر سورت مائدہ کی آیت تحریم خمر نازل ہوگئی۔

یہ حدیث شیئر کریں