مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1496

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَ رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَ عُمَرَ انْقَمَعْنَ وَسَكَتْنَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ تَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَأَغْلَظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا عُمَرُ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافہ کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو ان سب نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سنبھال لئے اور خاموش ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اپنی جان کی دشمن عورتو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! کیونکہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت اور ترش ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! شیطان جب تمہیں کسی راستے سے گذرتا ہوا دیکھ لیتا ہے، تو اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں