حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَجَّهَ نَحْوَ صَدَقَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَجَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، (میں بھی پیچھے پیچھے چلا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوگئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کردی اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہوگئی۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبدالرحمن ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن! کیا ہوا؟ میں نے اپنا اندیشہ ذکر کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ پردرود بھیجے گا، میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا اور جو شخص آپ پر سلام پڑھے گا میں اس پر سلام پڑھوں گا یعنی اسے سلامتی دوں گا اس پر میں نے بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کیا ہے۔
