مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1579

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَوْتَ ابْنِ الْمُغْتَرِفِ أَوْ ابْنِ الْغَرِفِ الْحَادِي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إِلَى مَكَّةَ فَأَوْضَعَ عُمَرُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مَعَ الْقَوْمِ فَإِذَا هُوَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ عُمَرُ هَيْءَ الْآنَ اسْكُتْ الْآنَ قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ اذْكُرُوا اللَّهَ قَالَ ثُمَّ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُفَّيْنِ قَالَ وَخُفَّانِ فَقَالَ قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ أَوْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا نَزَعْتَهُمَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْكَ فَيَقْتَدُونَ بِكَ قَالَ و حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ لَبِسْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مکہ مکرمہ جا رہے تھے، آدھی رات کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں ابن مطرف جو اونٹوں کا حدی خوان تھا، کی آواز پڑی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور لوگوں میں داخل ہوگئے، وہاں حضرت عبدالرحمن بھی موجود تھے ، جب طلوع فجر ہوگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اب بس کرو، اب خاموش ہوجاؤ کیونکہ طلوع فجر ہو چکی، اب اللہ کا ذکر کرو۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کے موزوں پر پڑی تو فرمایا کہ آپ نے موزے پہن رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو میں نے اس ہستی کی موجودگی میں بھی پہنے ہیں جو آپ سے بہتر تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ان موزوں کو اتار دیجئے، اس لئے کہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آپ کی پیروی کرنے لگیں گے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں