مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1587

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَشَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَإِنْ شَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِنْ شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَإِنْ شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثَلَاثًا حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمْ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ لِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ أَسْنَدَهُ لَكَ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ لَكِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِذَا اشْتَبَهَ عَلَى الرَّجُلِ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَدْرِي مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي تَذَاكَرَانِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ ذَكَرْنَا الرَّجُلَ يَشُكُّ فِي صَلَاتِهِ كَيْفَ يَصْنَعُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثَ

مکحول کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو؟ تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ایک شمار کرے، اگر دو اور تین میں شک ہو تو انہیں دو سمجھے، تین اور چار میں شک ہو تو انہیں تین شمار کرے، اس کے بعد نماز سے فراغت پا کر سلام پھیرنے سے قبل سہو کے دو سجدے کر لے پھر حسین بن عبداللہ نے اس حکم کو اپنی سند سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے لڑکے! کیا تم نے نبی صلی اللہ سے یا کسی صحابی سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ سامنے سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، انہوں نے پوچھا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس لڑکے سے یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی صحابی سے یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟۔

یہ حدیث شیئر کریں