مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1614

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ وَهُوَ شُرَيْحٌ وَالْمِصْرَانِ الْبَصْرَةُ وَالْكُوفَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْعُو بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقِيمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي فِيمَ أَذْهَبْتَ مَالَ النَّاسِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي لَمْ أُفْسِدْهُ إِنَّمَا ذَهَبَ فِي غَرَقٍ أَوْ حَرَقٍ أَوْ سَرِقَةٍ أَوْ وَضِيعَةٍ فَيَدْعُو اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي مِيزَانِهِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقروض کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ بندے! تونے لوگوں کا مال کہاں اڑایا؟ وہ عرض کرے گا پروردگار! آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اسے یونہی برباد نہیں کیا، بلکہ وہ تو سمندر میں ڈوب کر، جل کر، چوری ہو کر یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ضائع ہوگیا یہ سن کر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کے میزان عمل میں رکھ دیں گے جس سے اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر جھک جائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں