مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1463

عبداللہ بن عباس کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل رضی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس دوران حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑمڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔

یہ حدیث شیئر کریں