عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ قَالَ فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا قَالَ فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابو العباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑگیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔
