مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1541

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن مقام غدیر میں پہنچے تو لوگوں کو سخت پیاس لگی کیونکہ دوپہر کا وقت تھا، لوگ اپنی گردنیں اونچی کرنے لگے اور انہیں پانی کی خواہش شدت سے محسوس ہونے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔

یہ حدیث شیئر کریں