مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1565

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ قَالَ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ قَالَ يَا بُنَيَّةُ أَدْنِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هُوَ هَذَا فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَحَصَبَهُمْ بِهَا وَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ قَالَ فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہو کے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ اگے بڑھ کر آپ کو قتل کر دیں گے، اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاساہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا بیٹی! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد حرام تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے وہ یہ رہے، لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں اور ان کی ٹھوریاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں، اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہوگئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔

یہ حدیث شیئر کریں