مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1572

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنْ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا مَاذَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کرسعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔

یہ حدیث شیئر کریں