حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی ہیں چبھوتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھےحق آگیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ لوٹا کر لاسکتا ہے، نیز یہ کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا بے شک باطل تو بھاگنے والا ہے ہی۔
