مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1684

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُلَيْمَانُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنَّنِي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ دُمُوعًا

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے، فرمایا ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں، چنانچہ میں نے تلاوت شروع کر دی اور جب میں اس آیت پر پہنچا " وہ کیسا وقت ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے، تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں