حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ قَالَ وَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ وَادِيًا كَثِيرَ الْحَطَبِ فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ثُمَّ أَضْرِمْ عَلَيْهِمْ نَارًا قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ قَطَعْتَ رَحِمَكَ قَالَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ وَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ وَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنْ اللَّبَنِ وَإِنَّ اللَّهَ لَيَشُدُّ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنْ الْحِجَارَةِ وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ مَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ وَمَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا وَإِنَّ مِثْلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى قَالَ رَبِّ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنْ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَقَالَ فِي قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِتْرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَقَوْمُكَ تَجَاوَزْ عَنْهُمْ يَسْتَنْقِذْهُمْ اللَّهُ بِكَ مِنْ النَّارِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَأَضْرِمْهُ نَارًا ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ فَقَالَ الْعَبَّاسُ قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْدَاءُ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَآذَوْكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سَهْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر ہو چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ان قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجئے اور ان سے مانوس ہونے کی کوشش کیجئے، شاید اللہ تعالی ان کی طرف متوجہ ہوجائے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان لوگوں نے آپ کو نکالا اور آپ کی تکذیب کی، انہیں قریب بلا کر ان کی گردنیں اتار دیجئے، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! کوئی ایسی وادی تلاش کیجئے جہاں لکڑیاں زیادہ ہوں ، انہیں اس وادی میں داخل کر کے ان لکڑیوں کو آگ لگا دیں ، اس پر عباس کہنے لگے کہ تم نے رشتہ داری کو ختم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کریں گے، کچھ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دیئے جانے کی رائے ظاہر کی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے معاملے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کر دیتا ہے حتی کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتے ہیں کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں اور ابو بکر! آپ کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت عیسی علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ بڑے غالب، حکمت والے ہیں اور عمر! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا، پروردگار! زمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی باقی نہ چھوڑ اور عمر تمہاری مثال حضرت موسی علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے دعاء کی تھی کہ پروردگار ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ ایمان ہی نہ لا سکیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں تم لوگ ضرورت مند ہو اور ان میں سے کوئی شخص فدیہ یا قتل کے بغیر واپس نہیں جائے گا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے منہ سے نکل گیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ میں نے انہیں اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، مجھے اس دن سے زیادہ کبھی اس بات کا خوف محسوس نہیں ہوا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر کوئی پتھر نہ گر پڑے، یہاں تک کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا سوائے سہیل بن بیضاء کے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ بات مناسب نہ تھی کہ اپنے پاس قیدی رکھیں ، یہاں تک کہ زمینیں خون ریزی نہ کر لیں ، تم دنیا کا سازوسامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے، اگر اللہ کے یہاں پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے کے معاملے میں تم پر بڑا سخت عذاب آجاتا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
