حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذِهِ فَقَالَ لِمَنْ عَمِلَ كَذَا مِنْ أُمَّتِي
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔
