مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1732

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ عَنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَضَمَّ يَدَهُ وَرَفَعَهَا وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّقَ يَحْيَى بَيْنَ السَّبَّابَتَيْنِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَحَدٍ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں ( اور سحری کھالیں ) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی، راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا، بلکہ اس طرح ہوتی ہے، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔

یہ حدیث شیئر کریں