مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1735

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ لَيْلًا فَنَزَلْنَا دَهَاسًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ مَنْ يَكْلَؤُنَا فَقَالَ بِلَالٌ أَنَا قَالَ إِذًا تَنَامَ قَالَ لَا فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فِيهِمْ عُمَرُ فَقَالَ اهْضِبُوا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوا مَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ فَلَمَّا فَعَلُوا قَالَ هَكَذَا فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری خبر گیری کون کرے گا؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا؟) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم بھی سوگئے تو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سرج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہوگئے، ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہوگئے اور فرمایا اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے (نماز حسب معمول پڑھ لو) جب لوگ ایسا کر چکے تو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سو جائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔

یہ حدیث شیئر کریں