مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1765

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ قَالَ فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ مَا الرُّوحُ فَقَامَ فَتَوَكَّأَ عَلَى الْعَسِيبِ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُوهُ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جارہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گذر ہوا ، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، لیکن کچھ لوگوں نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا، الغرض! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا اور کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اپنی لاٹھی سے ٹیک لگالی، میں سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، چنانچہ وہ کیفیت ختم ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے ہم نے کہا تھا ناں کہ ان سے مت پوچھو۔

یہ حدیث شیئر کریں