مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1784

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنِي عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَيْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ كَانَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولَيْنِ لمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا قَالَ فَجَرَتْ سُنَّةً أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ فَكَفَانَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا هَذَا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ فِيهِ حَتَّى أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْهُ الْآنَ

ابو وائل کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو قتل کیا تو فرمایا کہ یہ اور ابن اثال مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا تھا کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے پیغمبر اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا، اس وقت سے یہ رواج ہوگیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا، بہرحال! ابن اثال سے تو اللہ نے ہماری کفایت فرما لی (وہ مرگیا) یہ شخص اسی طرح رہا، یہاں تک کہ اب اللہ نے اس پر قابو عطاء فرمایا۔

یہ حدیث شیئر کریں