مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1837

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ قَالَ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، اور فرمایا اگر وہ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابو بکر سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے اللہ کی پناہ! کہ ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔

یہ حدیث شیئر کریں