مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1847

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ وَقَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا رخ کر کے قریش کے سات آدمیوں کا نام لے کر بد دعاء فرمائی جن میں ابو جہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل تھے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، چونکہ وہ گرمی کے دن تھے اس لئے سورج کی حرارت سے ان کی لاشیں بگڑ گئیں تھیں۔

یہ حدیث شیئر کریں