مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1870

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنْ أَدَمٍ فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَقَالَ إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنْ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يَنْزِعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جمع فرمایا: اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے، اور بری باتوں سے روکے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔ جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق ہو اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گر پڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہے۔

یہ حدیث شیئر کریں