مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1875

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَقِيلَ لِي هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أُمَّتِي فَقِيلَ لِيَ انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ثُمَّ قِيلَ لِيَ انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ فَقِيلَ لِي أَرَضِيتَ فَقُلْتُ رَضِيتُ يَا رَبِّ رَضِيتُ يَا رَبِّ قَالَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنْ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ السَّبْعِينَ فَدَعَا لَهُ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ قَالَ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ، چنانچہ ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسی علیہ السلام کا گذر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کرمجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسی ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ پھر میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے کہا پروردگار ! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اگر تم ستر ہزار والے افراد میں شامل ہو سکو تو ایسا ہی کرو، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو ٹیلے والوں میں شامل ہو جاؤ، اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو افق والوں میں شامل ہو جاؤ، کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہوسکتا ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں ، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں