مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1900

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلَّا بِلَالٌ فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا، حضرت صہیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہم جن میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اللہ نے ان کے چچا خواجہ ابو طالب کے ذریعے کروائی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ان کی قوم کے ذریعے اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا، وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے، ان میں سے سوائے بلال کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو، کہ بلال نے تو اپنی ذات کو اللہ کے معاملے میں فناء کر دیا تھا اور انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا، قریش انہیں بچوں کے حوالے کر دیتے اور وہ انہیں مکہ مکرمہ کی گلیوں میں لئے پھرتے تھے لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ پھر بھی احد، احد کہتے تھے۔

یہ حدیث شیئر کریں