مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1942

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى قَالَ فَبَعَثَتْ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنْ الْجِيرَانِ فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَتْهَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنْ الشَّرَابِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَأَرْسَلَتْ الْخَادِمَ فَأَبْطَأَتْ إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ فَأَبْطَأَتْ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَإِلَّا قَالَتْ يَا رَبِّ وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ فَأَكُونَ سَبَبَهَا

ابو عمیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا ایک مرتبہ وہ اس سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئے لیکن وہاں اس سے ملاقات نہ ہوسکی، انہوں نے اس کے اہل خانہ سے اجازت لی اور سلام کیا اور ان سے پینے کے لئے پانی منگوایا، گھر والوں نے ہمسایوں سے پانی لینے کے لئے باندی کو بھیجا، اس نے آنے میں تاخیر کر دی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسی وقت گھر سے نکل آئے، اتنی دیر میں ابو عمیر آگئے اور کہنے لگے اے ابو عبدالرحمن! آپ جیسے شخص کے گھر میں آنے پر غیرت مندی نہیں دکھائی جاسکتی (کیونکہ آپ کی طر ف سے ہمیں مکمل اطمینان ہے) آپ اپنے بھائی کے گھر میں داخل ہو کر بیٹھے کیوں نیہں اور پانی وغیرہ بھی نہیں پیا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایسا ہی کیا تھا ، اہل خانہ نے ایک نوکرانی کو پانی لانے کے لئے بھیجا اسے آنے میں دیر ہوگئی یا تو اس وجہ سے کہ اسے جن لوگوں کے پاس بھیجا گیا تھاان کے پاس بھی پانی نہیں ہوگا یا تھوڑا ہونے کی وجہ سے وہ خود اس کے ضرورت مند ہوں گے، ادھر اہل خانہ نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہوجاتی ہے ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں خادمہ کو کوئی عذر پیش آگیا ہو اور وہ لعنت واپس پلٹ کر یہیں آجائے اور میں اس کا سبب بن جاؤں۔

یہ حدیث شیئر کریں