مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1948

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ صَفَّا خَلْفَهُ وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ قَالَ وَهُمْ فِي صَلَاةٍ كُلُّهُمْ قَالَ وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ صَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ فَقَضَوْا مَكَانَهُمْ ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَضَوْا رَكْعَةً

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے، مجموعی طور پر وہ سب نماز ہی میں تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھ سب لوگوں نے تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ پر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آکر ایک رکعت پڑھی۔

یہ حدیث شیئر کریں