حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
خمیر بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکاری حکم جاری ہوا کہ مصاحف قرآنی کو بدل دیا جائے (حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصاحف کے علاوہ کسی اور ترتیب کو باقی نہ رکھا جائے) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا تم میں سے جو شخص اپنا نسخہ چھپا سکتا ہو، چھپالے، کیونکہ جو شخص جو چیز چھپائے گا، قیامت کے دن اس کے ساتھ ہی آئے گا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں ، کیا میں ان چیزوں کو چھوڑ دوں، جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کی ہیں۔
