مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2008

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيَّ وَإِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ کا جواب دے دیتے تھے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں