حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنْ الْوَاصِلَةِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيْ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ قَالَ فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ مَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ قَالَتْ الْمَرْأَةُ فَلَعَلَّهُ فِي بَعْضِ نِسَائِكَ قَالَ لَهَا ادْخُلِي فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ بَأْسًا قَالَ مَا حَفِظْتُ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرتبہ آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے، آپ عورتوں کو بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ایسا ہی ہے، اس عورت نے پوچھا کہ یہ حکم آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سنا ہے؟ فرمایا مجھے یہ حکم قرآن میں بھی ملتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں بھی ملتا ہے، وہ عورت کہنے لگی بخدا! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی کہ پیغمبر اللہ تہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے بالوں کے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی سے، ہاں ! اگر کوئی بیماری ہو تو دوسری بات ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا اگر ایسا ہو تو میں عبد صالح حضرت شعیب علیہ السلام کی یہ نصییحت یاد نہ رکھتا کہ میں تمہیں جس چیز سے روکتا ہوں ، میں خود اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا (کہ میں تمہیں ایک کام سے روکوں اور خود وہی کام کرتا رہوں )
