مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2068

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُصْعَدُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ وَقَالَ مَرَّةً وَمَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ خِلَالٍ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھالیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آکر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھالیا جاتا ہے، اور فرمایا کہ جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں ، بہرحال! اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطاء ہوئیں ، پانچ نمازیں ، سورت بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کر دی جائے گی گو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

یہ حدیث شیئر کریں