مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2092

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ذَرٍّ عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ بِمَ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے گروہ نسواں ! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو ایک عورت جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی، کھڑی ہو کر کہنے لگی یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی بہت کرتی ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں