حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ يَأْذَنُ لَنَا قَالَ فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا فَدَخَلَ فَأَعْلَمَهُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَكَانَكُمْ فَأَدَعُكُمْ عَلَى عَمْدٍ مَخَافَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ باب عبداللہ پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے تھے، اتنی دیر میں یزید بن معاویہ نخعی آگئے، وہ اندر جانے لگے تو ہم نے ان سے کہا کہ انہیں ہمارا بتا دیجئے گا، چنانچہ انہوں نے اندر جا کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتا دیا، چنانچہ وہ فورا ہی تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں ، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھانہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
