حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا: انہوں نے پھر پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا اسے پتھر گرم کر کے لگاؤ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
