مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2137

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَسُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ تُؤَاخَذْ وَإِنْ أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔

یہ حدیث شیئر کریں