مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2151

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَكُنْ سَمَّى لَهَا صَدَاقًا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا فَرَجَعُوا ثُمَّ أَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي فَإِنْ أَصَبْتُ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُوَفِّقُنِي لِذَلِكَ وَإِنْ أَخْطَأْتُ فَهُوَ مِنِّي لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى بِذَلِكَ قَالَ هَلُمَّ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ بِذَلِكَ فَشَهِدَ أَبُو الْجَرَّاحِ بِذَلِكَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ فَقَالَ هَلُمَّ شَاهِدَاكَ عَلَى هَذَا فَشَهِدَ أَبُو سِنَانٍ وَالْجَرَّاحُ رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ

عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی نے آکر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوقت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر اس کا کوئی جواب نہ دیا، سائلین واپس چلے گئے، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ آکر ان سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں ، وہ آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں ، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہوگا اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہوگا، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عوتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہو اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فیصلہ فرمایا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر کوئی گواہ ہو تو پیش کرو؟چنانچہ حضرت ابوا لجراح رضی اللہ عنہ نے اس کی شہادت دی۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا اور اس پر گواہی حضرت ابو سنان اور جراح رضی اللہ عنہ نے دی جو قبیلہ اشجع کے آدمی تھے۔

یہ حدیث شیئر کریں