حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ فَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ مَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ بَلَى قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَتْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَجَاءَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ موچنے سے بالوں کو نچنے والی اور نچوانے والی، جسم گودنے والی اور حسن کے لئے دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، ام یعقوب نامی ایک کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس طرح کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی روشنی میں لعنت فرمائی ہے، میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں؟ وہ عورت کہنے لگی بخدا! میں تو دوگتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں ، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی کہ پیغمبر اللہ تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے، وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا اگر ایسا ہو تو میری بیوی میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
