مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2289

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَبَاشَرْتُهَا وَقَبَّلْتُهَا وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ قَالَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے باغ میں ایک عورت مل گئی، میں نے اسے اپنی طرف گھسیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا اور اسے بوسہ دے دیا اور خلوت کے علاوہ سب ہی کچھ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ "دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا نہیں ، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔

یہ حدیث شیئر کریں