مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2296

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ أَبُو الْمُنْذِرِ الْكِنْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ابن آدم کی ایک نیکی کو دس گنا سے بڑھا کر سات سو گنا تک کر دے گا سوائے روزے کے کہ (اللہ فرماتا ہے) روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ خود دوں گا اور روزہ دار کو دو وقتوں میں زیادہ خوشی ہوتی ہے، ایک روزہ افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور ایک خوشی قیامت کے دن ہوگی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں