مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2310

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ وِجَاؤُهُ أَوْ وِجَاءَةٌ لَهُ

علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ منی کے میدان میں ، میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ راسے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابو عبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلا کر یہ حدیث بیان کی کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے گروہ نوجواناں ! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں