حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا الْعَشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمَّا قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أُخِّرَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ أَمَّا الْمَغْرِبُ فَإِنَّ النَّاسَ لَا يَأْتُونَ هَاهُنَا حَتَّى يُعْتِمُوا وَأَمَّا الْفَجْرُ فَهَذَا الْحِينُ ثُمَّ وَقَفَ فَلَمَّا أَسْفَرَ قَالَ إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ دَفَعَ الْآنَ قَالَ فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے میدان عرفات سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوچ کیا، جب وہ مزدلفہ پہنچے تو وہاں پہنچ کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائی، اور درمیان میں کھانا منگوا کر کھایا اور سوگئے، جب طلوع فجر کا ابتدائی وقت ہوا تو آپ بیدار ہوئے اور منہ اندھیرے ہی فجر کی نماز پڑھ لی، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ ان دو نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کر دیا تھا ، مغرب کو تو اس لئے کہ لوگ یہاں رات ہی کو پہنچتے ہیں ، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے، پھر انہوں نے وقوف کیا اور جب روشنی پھیل گئی تو فرمانے لگے اگر امیرالمومنین اب روانہ ہوجائیں تو وہ صحیح کریں گے، چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔
