مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 2331

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فِيمَا فَعَلْتَ أَمْ ابْتَدَعْتَ قَالَ لَمْ يَأْتِنِي أَمْرٌ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ أَبْتَدِعْ وَلَكِنْ أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ

قاسم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز میں تاخیر کر دی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر کھڑے ہوئے، اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں امیرالمومنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے یا آپ نے کوئی نئی چیز ایجاد کرلی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میرے پاس امیر المومنین کا کوئی حکم آیا ہے اور نہ میں نے کوئی چیز ایجاد کی ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول یہ نہیں چاہتے کہ ہم اپنی نماز کے لئے آپ کا انتظار کریں اور آپ اپنے کاموں میں مصروف رہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں