حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَرْمِي فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مَقْرَى الْبُسْتَانِ فِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَقُلْتُ أَتَتَوَضَّأُ فِيهِ وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ
عاصم بن منذر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اپنے یا عبیداللہ بن عبداللہ کے باغ میں تیراندازی کررہے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا عبیداللہ کھڑے ہو کر باغ کے تالاب پر چلے گئے وہاں اونٹ کی کھال پانی میں پڑی ہوئی تھی وہ اس پانی سے وضو کرنے لگے میں نے ان سے کہا کہ آپ اس پانی سے وضور کرہے ہیں جبکہ اس میں یہ کھال بھی پڑی ہوئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے والد صاحب نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب پانی دو تین مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
