حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ أَوْ وَهْبِ بْنِ قَطَنٍ اللَّيْثِيِّ شَكَّ إِسْحَاقُ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا اجْلِسِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
خضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام " یوحنس " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی ایک باندی آگئی اور حالات کی سختی کا ذکر کرنے لگی اور ان سے مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کی اجازت طلب کرنے لگی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
